ابنا: خبروں ميں کہا گيا ہے کہ اپوزيشن رہنما سوتھپ تھاگسوبن کي اپيل پر مغربي بينکاک ميں يادگار جمہوريت اسکوائر پر لاکھوں لوگوں نے اجتماع کيا جس کے بعد مظاہرين نے اہم چوراہوں کي جانب مارچ کيا اور چوراہوں پر پہنچ کے دھرنا دے کے بيٹھ گئے۔ اپوزشن رہنما نے ان مظاہروں کو حکومت کے خلاف بغاوت کا نام ديا ہے۔انہوں نے کہا کہ يہ عوامي بغاوت ہے اور ہميں فوجي بغاوت کا سہارا لينے کي کوئي ضرورت نہيں ہے۔ پوليس کا کہنا ہے کہ مخالفين نے بارہ اسپتالوں، اٹھائيس ہوٹلوں، چوبيس اسکولوں اور فائربريگيڈ کے پانچ مراکز پر بھي قبضہ کر رکھا ہے۔احتجاجيوں کا کہنا ہے کہ وہ اہم سرکاري اداروں کے سامنے دھرنا ديکر راستے بند کرديں گے اور سرکاري ملازمين کو اندر جانے کي اجازت نہيں ديں گے۔ دوسری جانب ملک کی وزیر اعظم نے انتخابات کی تاریخ کے بارے میں مذاکرات کرنے کی درخواست کی ہے۔ ذرائع کے مطابق تھائي لینڈ کی وزیر اعظم کے سینئر مشیر سورا ناند وجاجیوا نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے حزب اختلاف اور سیاسی پارٹیوں کو انتخابات کی نئي تاریخ کے بارے میں مذاکرات کرنے کی دعوت دی ہے۔حکومت نے دو فروری کوعام انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا لیکن حزب اختلاف کے احتجاج اور عوامی مظاہروں کی بناء پر الیکشن کمیشن نے انتخابات کے ملتوی کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے اور تجویز پیش کی ہے کہ یہ انتخابات، چار مئي کو کرائے جائيں۔ تھائي لینڈ میں کئي مہینوں سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین نے حکومت پر مالی بدعنوانیوں کے الزام لگائے ہیں۔
.......
/169